Interesting Facts in Urdu Movies Contact Us

ابراہم لنکن

پیدائش

نولن کریک کی سرحد پر جھاڑیوں اور جنگلی پودوں سے ڈھکی ہوئی پہاڑیوں کا سلسلہ دور تک چلا گیا ہے۔ راستے تو راستے برساتی گڑھے تک برف سے ڈھکے ہوئے تھے۔ سردی شباب پر تھی مگر ایسے موسم میں بھی نو سالہ ڈینس ہینکس برف کے گڑھوں سے بچتا بچاتا بڑی تیزی سے اس راستے پر لپکا جا رہا تھا جو پہاڑی علاقے سے گزرتا ہوا لنکن کیبن کی طرف جاتا ہے۔

اتوار کا دن تھا اور سن اٹھارہ سو نو کے ماہِ فروری کی ۱۲ تاریخ ڈینس کو شاید اس بات کا احساس بھی نہ ہوگا کہ کڑکڑاتی ہوئی سردیوں کی یہ صبح امریکی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش دن بن جائے گی۔

وہ تو بس اس خوشی میں لپکا جا رہا تھا کہ ٹام لنکن اور نینسی کے گھر آج ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام انہوں نے ابراہم لنکن رکھا۔

نینسی، ہینکس کی چچا زاد بہن تھی۔ ہینکس، نینسی سے چند سال چھوٹا تھا۔ ان دونوں کی پرورش نینسی کے چچا ٹام اور چچی بیٹسی اسپیرو نے کی تھی۔ دونوں بچپن سے بھائی بہن کی طرح رہتے تھے اور اب تک دونوں میں سگے بھائی بہن کی سی محبت باقی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ جیسے ہی ہینکس کو نینسی کے ہاں ولادت کی خبر ملی وہ نومولود بچے کو دیکھنے کے لئے اس قدر بے تاب ہو گیا کہ سردی اور برف باری کی پروا کئے بغیر ہی گھر سے نکل پڑا۔

نینسی کو بھی ہینکس اور اپنے چچا چچی سے ایک خاص تعلق خاطر تھا اور اس کی بھی یہی خواہش تھی کہ اس کے ننھے ایب کو یہی لوگ سب سے پہلے دیکھیں۔

جب وقت ڈینس ٹیلوں اور جھاڑیوں کو پھلانگتا ہوا میدان میں پہنچا تو اسے لنکن کیبن کی چمنی سے نیلے رنگ کا دھواں نکلتا ہوا نظر آیا۔

اس نے اپنی رفتار کچھ اور تیز کر دی۔ وہ لومڑی کی کھال کی ٹوپی پہنے ہوئے تھا اور اس کی دُم ہوا میں لہرا رہی تھی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ ننھے منے ایب میں کس کی شباہت ہوگی۔ ممکن ہے باپ کی ہو یا شاید ماں کی... ویسے تو ڈینس کو چھوٹے بچوں سے کچھ زیادہ انس نہ تھا لیکن شاید نینسی کا ننھا منما مہمان عام بچوں سے مختلف ہو۔

نینسی کا گھر۔ لیکن کیبن، ایک کمرے کا چھوٹا سا مکان تھا۔ کمرے کے آتش دان میں لکڑیاں جل رہی تھیں اور ان کا نیلگوں دھواں چمنی سے نکل کر گاؤں کی سرد فضا میں گم ہو رہا تھا۔ کمرہ آگ کی وجہ سے روشن اور قدرے گرم تھا۔ ڈینس چٹخنی کھول کر کمرے میں داخل ہوا۔ اس کی نظریں نینسی کے تبسم چہرے پر پڑیں۔ اس کے چہرے پر تھکان کے آثار نمایاں تھے۔ کمزور چہرے کو مامتا کے جذبات نے بڑا دل آویز بنا دیا تھا۔ ڈینس کی نظریں نینسی کے چہرے سے ہٹ کر پہلی مرتبہ ننھے ایب پر پڑیں جو ایک دن امریکہ کا محبوب ترین صدر بننے والا تھا۔

سالہا سال بعد ڈینس ہینکس بوڑھا ہو چکا تھا لیکن اس کے ذہن سے سردیوں کی اس صبح کی یاد کبھی محو نہیں ہوئی۔ وہ بڑے ذوق شوق سے ان باتوں کو تخیل کی رنگ آمیزی کے ساتھ بیان کیا کرتا تھا۔ لوگ جانتے تھے کہ ان میں سے بعض اوقات سچے تھے اور بعض زیبِ داستاں کے لئے "جہاں دیدہ" لوگوں کی طرح ڈینس اپنی طرف سے کچھ نہ کچھ ضرور بڑھا دیتا تھا لیکن اس کے باوجود لوگ ڈینس کی باتوں سے کبھی نہ تھکتے، انہیں ڈینس کی باتیں کبھی نہ بھولتی تھیں۔ جب وہ اپنے مخصوص دیہاتی لب و لہجے میں کہتا۔

← Back to List