Interesting Facts in Urdu Movies Contact Us

Dr. Ruth Pfau (1929–2017)

یہ 1960 کی بات ہے. کہ ایک جرمن خاتون جوکہ تیس سال کی عمر کی تھیں. نوجوان اور حسین تھیں. اور پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر تھیں. پاکستان آنکر یہیں کی ہو گئیں. 

یہاں آنے کی وجہ کیا تھی.؟؟؟

وجہ یہ تھی کہ ان خاتون نے پاکستان میں جذام( کوڑھ) کے مریضوں پر بننے والی ایک ڈاکو مینٹری فلم BBC لندن سے دیکھی. کہ پاکستان میں اس بیماری میں مبتلا مریضوں کی زندگی کس قدر عذاب ہوجاتی ہے. 

اس بیماری میں مبتلا مریض کے جسم پر کسی بھی جگہ پھوڑے نکلتے ہیں. پھر ان میں سے پیپ نکلتی. اور اسکے بعد جسم کا وہ حصہ گلنے سںڑنے لگتا تھا. اور پھر گوشت ہڈیوں سے نکل کر گرنے لگتا. 
اس بیماری کو جوکہ اُسوقت تک لاعلاج سمحھی جاتی تھی. "عذابِ الہی" کہا جاتا تھا. اور ایسے مریضوں کو معاشرے سے الگ کردیا جاتا تھا. 

اُس زمانے میں کراچی میں آئ آئ چندریگر روڈ پر ایک جگہ بنائ گئ تھی. جہاں جذام کے مریضوں کو ڈال دیا حاتا تھا. اور کچھ دردمند افراد اس چار دیواری کے دوسری طرف سے ہی ان مریضوں کو روٹیاں پھینک کر چلے جاتے تھے. 

سخت ترین بیماری، اور اُس پر لوگوں کا رویہ جذام کے مریضوں کیلیے دہرا عذاب تھا. انکے اپنے ان سے منھ موڑ لیتے تھے. اور پھر سسک سسک کر مرجانا ہی انکا مقدرتھا .

یہ جرمن خاتون......انکا نام "ڈاکٹر رُتھ فاؤ" تھا. 1960 میں کراچی تشریف لائیں. انکو ایک عیسائ مشنری تنظیم نے ہی پاکستان بھیجا تھا. آئ آئ چندریگر روڈ پر ایک جھونپڑی میں اُنھی جذام کے مریضوں کے درمیان ہی اپنا کلینک کھولا. اور ان مریضوں کا علاج کرنا شروع کیا. 

ڈاکٹر صاحبہ کو صرف تین سال کی سخت محنت لوگوں کو یہ سمجھانے پر لگی. کہ جذام ایک بیماری ہے. جوکہ اللہ تعالی کی جانب سے ہے. اسکو عذاب الہی قرار دینا سراسر جہالت اور کم علمی کی نشانی ہے. 

اور بالاآخر 1963 میں ڈاکٹر آئ کے گُل ، اور انکے اسٹاف نے ڈاکٹر صاحبہ کے ساتھ ملکر کام کرنا شروع کیا. اور کئ نرسیں بھی آپکے ساتھ اسٹاف میں شامل ہوئیں. اور یوں وہ کٹھن سفر جس پر یہ بہادر عورت اکیلے ہی چلی تھی. اب آہستہ آہستہ کارواں بننا شروع ہوگیا.

ڈاکٹر صاحبہ نے جذام کے مریضوں کا جس محنت، محبت اور شفیق انداذ میں علاج کیا. وہ انسان دوستی کی ایک زندہ ترین مثال ہے. آپ خود ان مریضوں کی، کہ جن سے انکے اپنے دور بھاگتے تھے. انکے زخموں کی صفائ کرتیں. انکی مرہم پٹی کرتیں . انکو تسلی اور دلاسہ دیتیں. اور اپنے شفیق لفظوں سے انکو زندہ رہنے کا حوصلہ عطا کرتیں.

جو مشن آپنے اٹھایا تھا. اس میں کئ لوگ اب آپکے ساتھ شامل تھے. سو ضرورت اس بات کی تھی. کہ ایک بڑا اسپتال یہ سینی ٹوریم ان مریضوں کیلیے بنایا جائے.

اس کام کا تخمینہ 1963 میں تقریباً نوے لاکھ روپے لگایا گیا۔ یوں آپ اس مقصد کیلیے دوبارہ جرمنی گئیں. اپنی عوام کو اس مقصد سے آگاہ کیا. اور انکے سامنے اپنی جھولی پھیلادی. اور مطلوبہ رقم کا بندوبست کرکے ہی آپ جرمنی سے لوٹیں.

اور آخرکار 1965 میں"میری ایڈ لیپریسی سینٹر" کا قیام عمل میں لایا گیا. اور یوں آپکو جذام کیخلاف اپنی تمام تر کوششیں کامیاب ہوتی نظر آنے لگیں.

ڈاکٹر صاحبہ نے پوری محنت اور وقت اس اسپتال اور اس میں آنے والے مریضوں کو دیا. اتنا بڑا اسٹاف ہونے کے باوجود بھی آپ پاکستان سے وآپس نہیں گئیں. بلکہ انتھک محنت اور جانفشانی سے جذام کے خلاف لڑائ لڑتی رہیں.اس دوران ملک کے دیگر حصوں میں بھی میری ایڈ لیپریسی سینٹر کی شاخیں کھلتی چلی گئیں. آپنے ملک کے گوشے گوشے میں اس مہلک بیماری کا پیچھا کیا.

آپ کی خدمات اپنی مثال آپ تھیں. اس ملک کی شہری نہ ہونے کے باوجود بھی جو لڑائ آپ لڑرہی تھیں، وہ اپنی مثال آپ تھی. لوگ خود آپکی خدمات کے معترف تھے. اس میں اپنے اور پرائے سب ہی شامل تھے. آپکو اپنی خدمات کے عوض کئ اعلی اعزازات مل چکے تھے.

اور آخرکار 1990 میں آپکو پاکستانی شہریت عطا کی گئ۔
اور آپنے بحیثیت اکیلی عورت ہونے کے باوجود اس جان لیوا مرض کیخلاف جو لڑائ لڑی. اس کا شاندار نتیجہ بھی آپکے سامنے آیا.

1996 میں عالمی ادارہِ صحت نے پاکستان کو جذام سے 100% فیصد پاک ملک قرار دے دیا. اس وقت پاکستان ہی ایشیاء کا پہلا ملک تھا. جوکہ اس مہلک مرض سے مکمل طور پر پاک ملک تسلیم کیا گیا. 

آپ نے اپنی کوششوں کو بارآور ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا. لیکن آپ آرام سے نہیں بیٹھیں. بلکہ اُسی محنت،محبت اور تندہی سے مریضوں کی خدمت کرتی رہیں. اور آپنے اپنا مشن ہی اس بات کو قرار دیا. کہ پاکستان کے گوشے گوشے کو جذام کی بیماری سے پاک رکھا جائے گا.  اور آپ اسی مشن پر تاحیات ڈٹی رہیں. 

اور10 اگست  وہ دن بھی آیا. کہ اس دن ڈاکٹر صاحبہ اس جہان فانی سے منھ موڑ گئیں. انکے عقیدتمندوں نے یہ روح فرساء خبر سنی کہ انکا انتقال ہوگیا ہے. اور ڈاکٹر صاحبہ کی تدفین اور آخری رسومات 19 اگست کو ادا کی جائینگی.

ڈاکٹر صاحبہ نے پوری زندگی اکیلے ہی گزاری. اپنے نفس کا گلا گھونٹ دیا. انھوں نے اپنے مشن کو ہر چیز اور ہر جذبے پر مقدم رکھا. آپنے پوری زندگی شادی نہیں کی تھی..

بالاآخر 19 اگست کا دن بھی آن پہنچا. ڈاکٹر صاحبہ کو انکی وصیت کے مطابق میری ایڈ لیپریسی سینٹر لایا گیا. اور جب آپکی میت لائ گئ. تو آپ سے وابستہ افراد اور آپکے عقیدتمند اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے. شدت جذبات کے مارے لوگ زار و قطار رو پڑے.

آپکی آخری رسومات و تدفین میں ملک کی تمام تر اعلی شخصیات نے شرکت کی. اور یوں وہ فرشتہ صفت عورت جس نے بلاء کسی معاوضہ کے، بلاء کسی غرض کے اس ملک کو اپنی زندگی کے 57 سال دئیے. جو جان لیوا بیماری کے مریضوں کیلیے اللہ تعالی کا پیغام شفاء بنی رہی۔ وہ خاتون 19 اگست 2017 کو آسودہِ خاک ہوئی۔ 

دلچسپی سے بھرپور پوسٹنگ کیلیے واٹس ایپ چینل دلچسپ معلومات کو فالو کرلیں 

ڈاکٹر صاحبہ نے تمام زندگی ایک کمرے میں گزار دی. اس ایک کمرے میں ایک چارپائ ایک طرف پانی کا کولر اور انکے مطالعہ کیلیے چند کتابیں.....یہ تھی انکی کل جمع پونجی ! 

← Back to List